صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
75. باب فرض الإيمان - ذكر إعطاء الله جل وعلا نور الصحيفة من قال عند الموت ما وصفناه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص وفات کے وقت یہ کلمہ کہے جس کا ذکر گزرا، اللہ جل وعلا اسے نورانی صحیفہ عطا فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 205
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ سُعْدَى الْمُرِّيَّةِ ، قَالَتْ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِطَلْحَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ مُكْتَئِبًا، أَسَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلا كَانَتْ لَهُ نُورًا لِصَحِيفَتِهِ، وَإِنَّ جَسَدَهُ وَرُوحَهُ لَيَجِدَانِ لَهَا رَوْحًا عِنْدَ الْمَوْتِ" ، فَقُبِضَ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُهُ إِلا الَّتِي أَرَادَ عَلَيْهَا عَمَّهُ، وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ شَيْئًا أَنْجَى لَهُ مِنْهَا لأَمَرَهُ.
سعدی بن مریہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، تو دریافت کیا: کیا وجہ ہے، آپ پریشان ہیں؟ کیا آپ کو اپنے چچازاد کی حکومت پسند نہیں ہے؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی نہیں! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں ایک ایسے کلمے کے بارے میں جانتا ہوں کہ جو بھی بندہ مرتے وقت اس کلمے کو پڑھے گا، تو یہ کلمہ اس کے صحیفے میں، اس کے لئے نور کی حیثیت رکھے گا۔ اور اس شخص کا جسم اور اس شخص کی روح مرنے کے وقت اس کلمے کی وجہ سے راحت محسوس کریں گے۔“ (سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، لیکن میں آپ سے اس کلمے کے بارے میں دریافت نہیں کر سکا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خیال میں یہ وہی کلمہ ہو گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا (جناب ابوطالب) کو پڑھانا چاہتے تھے۔ اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوتا کہ کوئی اور کلمہ، اس کلمے سے زیادہ بہتر طور پر آپ کے چچا کے لئے نجات کا باعث بن سکتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وہ کلمہ پڑھنے کا حکم دیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 205]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 48 - 49).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، محمد بن عبد الوهاب هو القناد السكري الكوفي، والشعبي: هو عامر بن شراحيل، وسُعدى المرية: لها صحبة، وهي امرأة طلحة بن عبيد الله التيمي أحد العشرة المبشرين بالجنة.
الرواة الحديث:
سعدي بنت عوف المرية ← عمر بن الخطاب العدوي