صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
644. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الصلاة الأخرى التي توهم أكثر الناس أنها معارضة الأخبار الأخر التي ذكرناها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس دوسری نماز کا ذکر جو اکثر لوگوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ دیگر خبروں سے متعارض ہے
حدیث نمبر: 2124
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، أَحْسَبُهُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ؟". فَقُلْنَا: لا. فَقَالَ:" مُرِي بِلالا فَلْيُبَادِرْ بِالصَّلاةِ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ مَقَامَكَ. قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ كَلامِهِ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ؟". قَالَتْ: فَقُلْتُ: لا. قَالَ:" مُرِي بِلالا فَلْيُنَادِ بِالصَّلاةِ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ". قَالَتْ: فَأَوْمَأَتْ إِلَى حَفْصَةَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ إِلا يَبْكِي. قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهَا حِينَ فَرَغَتْ مِنْ كَلامِهَا، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ؟". قَالَتْ: فَقُلْتُ: لا فَقَالَ: " مُرِي بِلالا فَلْيُنَادِ بِالصَّلاةِ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: فَأَقَامَ بِلالٌ الصَّلاةَ، وَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ أَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِنُوبَةَ وَبَرِيرَةَ فَاحْتَمَلاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخُطُّ فِي الأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا أَحَسَّ أَبُو بَكْرٍ بِمَجِيءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْخِرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَثْبُتَ، قَالَتْ: وَجِيءَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَ بِحِذَاءِ أَبِي بَكْرٍ فِي الصَّفِّ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةِ الأَخْبَارِ وَلا يَفْقَهُ فِي صَحِيحِ الآثَارِ أَنَّهُ يُضَادُّ سَائِرَ الأَخْبَارِ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهَا، وَلَيْسَ بَيْنَ أَخْبَارِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ وَلا يُكَذِّبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَلا يُنْسَخُ بِشَيْءٍ مِنْهَا الْقُرْآنُ بَلْ يُفَسَّرُ عَنْ مُجْمَلِ الْكِتَابِ وَمُبْهَمِهِ، وَيُبَيِّنُ عَنْ مُخْتَصَرِهِ وَمُشْكِلِهِ، وَقَدْ دَلَّلْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ عَلَى أَنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ الَّتِي رُوِيَتْ كَانَتْ فِي صَلاتَيْنِ لا فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ، عَلَى حَسْبِ مَا وَصَفْنَاهُ، فَأَمَّا الصَّلاةُ الأُولَى فَكَانَ خُرُوجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَكَانَ فِيهَا إِمَامًا، وَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَأَمَرَهُمْ بِالْقُعُودِ فِي تِلْكَ الصَّلاةِ، وَهَذِهِ الصَّلاةُ كَانَ خُرُوجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ، وَكَانَ فِيهَا مَأْمُومًا وَصَلَّى قَاعِدًا فِي الصَّفِّ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان دے دی گئی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو وہ نماز کے لیے جلدی کرے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ آپ کی جگہ پر کھڑے نہیں ہو سکیں گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا جب آپ کلام کر کے فارغ ہوئے تھے، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان ہو گئی ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو نماز کے لیے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ قرأت نہیں کر سکیں گے اور روتے رہیں گے، راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات ختم ہونے پر ان کی طرف دیکھا، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان دے دی گئی ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو نماز کے لیے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے، تم یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی عورتوں کی طرح ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو آپ نوبہ اور بریرہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تشریف لے گئے، ان دونوں نے آپ کو ٹیک دی ہوئی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ زمین پر نشان بنا رہی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر رہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صف میں بٹھا دیا گیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): یہ روایت اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہے جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور مستند روایات کا فہم نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ دیگر تمام روایات کے برخلاف ہے جو اس سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہوتا اور نہ ان میں سے کوئی ایک کسی دوسری کی تکذیب کرتی ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک روایت کے ذریعے قرآن کے حکم کو منسوخ قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے کتاب کے مجمل اور مبہم حکم کی وضاحت کی جاتی ہے اور اس کے مشکل اور مختصر حکم کو بیان کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے تحت ہم اس بات کی طرف رہنمائی کر چکے ہیں کہ یہ تمام روایات جو نقل کی گئی ہیں، یہ دو نمازوں کے بارے میں ہیں، ایک نماز کے بارے میں نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات نقل کی ہے، جہاں تک پہلی نماز کا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کی ادائیگی کے لیے دو صاحبان کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے اور آپ امام کے طور پر اس نماز میں شامل ہوئے تھے، آپ نے بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی تھی اور آپ نے اس نماز میں بھی لوگوں کو بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ وہ نماز ہے جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ نوبہ رضی اللہ عنہا (نامی کنیزوں کے درمیان چلتے ہوئے) تشریف لے گئے تھے، آپ اس میں مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور آپ نے اس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف میں بیٹھ کر نماز ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2121»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2115). تنبيه!! رقم (2115) = (2118) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير نعيم بن أبي هند، فإنه من رجال مسلم وحده.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2124 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق