صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
659. باب فرض متابعة الإمام - ذكر جواز صلاة الإمام على مكان أرفع من المأمومين إذا أراد تعليم القوم الصلاة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی جواز کا ذکر کہ امام مأموموں سے بلند مقام پر نماز پڑھائے اگر وہ لوگوں کو نماز سکھانا چاہے
حدیث نمبر: 2142
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّ رِجَالا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ: مِمَّ عُودُهُ؟ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ؟ وَلَقَدْ رَأَيْتُ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلانَةً، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا سَهْلٌ، أَنْ مُرِي غُلامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهَا إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوَضَعَتْ هَاهُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا، وَرَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، وَرَفَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، وَتَوَلَّى الْقَهْقَرِيَ، فَسَجَدَ وَرَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا، وَلِتَعْلَمُوا صَلاتِي".
ابوحازم بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے درمیان منبر کے بارے میں بحث ہو گئی تھی کہ وہ کون سی لکڑی سے بنایا گیا تھا۔ ان لوگوں نے اس بارے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں، یہ کون سی لکڑی سے بنایا گیا تھا اور میں اس دن دیکھ رہا تھا جب آپ پہلی مرتبہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں خاتون کی طرف پیغام بھجوایا تھا۔ سیدنا سہل نے اس خاتون کا نام بھی بیان کیا تھا۔ (بعد کا کوئی راوی اس کا نام بھول گیا) پیغام یہ تھا، تم اپنے بڑے لڑکے سے کہو وہ ہمارے لیے لکڑیوں سے کوئی چیز بنا دے جس پر میں بیٹھ جایا کروں۔ اس وقت جب میں نے لوگوں سے کلام کرنا ہوتا ہے، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو یہ ہدایت کی، اس نے جنگل کی لکڑیوں سے اسے بنا دیا، پھر وہ اس کو لے کر آیا۔ اس خاتون نے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے وہاں رکھا گیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اس پر نماز ادا کی۔ آپ نے تکبیر کی۔ آپ اس وقت اس پر موجود تھے جب آپ رکوع میں گئے، تو آپ اس پر موجود تھے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، تو آپ اس پر موجود تھے، پھر آپ الٹے قدموں پیچھے ہٹے اور آپ نے (زمین پر) سجدہ کیا، پھر آپ منبر پر چڑھ گئے پھر آپ نے اسی طرح کیا، اور نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا ہے، تاکہ تم میری پیروی کرو اور تم میری نماز (کے طریقے) کے بارے میں جان لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2142]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2139»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة» (ص 81).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو حازم: هو سلمة بن دينار.
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي