صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
88. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن المرء إنما يحقن دمه وماله بالإقرار بالشهادتين اللتين وصفناهما إذا أقر بهما بإقامة الفرائض-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ انسان کا خون اور مال اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ دونوں شہادتوں کا اقرار فرائض کی ادائیگی کے ساتھ کرے۔
حدیث نمبر: 219
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقَدْ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں، اور زکوۃ ادا کریں جب وہ ایسا کر لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف، اور ان لوگوں کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 219]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر (175): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وقد تقدم تخريجه برقم "175".
الرواة الحديث:
محمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي