صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
756. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر قد يفصل به إشكال اللفظة التي ذكرناها في خبر ابن المبارك
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ابن المبارک کی خبر میں ہمارے بیان کردہ لفظ کے اشکال کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2246
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى نَزَلَتْ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ سورة البقرة آية 238" الآيَةَ .
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں پہلے کوئی شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی کے ساتھ اپنے کسی کام کے سلسلے میں بات چیت کر لیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ نماز کی حفاظت کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2243»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد فمن رجال البخاري. تنبيه!! الصواب إسناده صحيح على شرط البخاري، وهذا خطأ في إدخال البيانات وليس من الشيخ شعيب لأنه قال بإثره: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد فمن رجال البخاري». - مدخل بيانات الشاملة -.
الرواة الحديث:
سعد بن إياس الشيباني ← زيد بن أرقم الأنصاري