صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
829. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن القبور إذا نبشت وأقلب ترابها جائز حينئذ الصلاة على ذلك الموضع وإن كان في البداية فيه قبور
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر قبریں کھودی جائیں اور ان کی مٹی الٹ پلٹ کی جائے تو اس جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے، چاہے شروع میں وہاں قبریں ہوں
حدیث نمبر: 2328
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، نَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلأِ بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ، وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاؤُوا، فَقَالَ:" يَا بَنِي النَّجَّارِ! ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا" قَالُوا: لا، وَاللَّهِ لا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ، مَا هُوَ إِلا إِلَى اللَّهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ: كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَحَرْثٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَنُبِشَتْ، وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّيَ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَتْ، فَوَضَعُوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، قَالَ: فَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَلِكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، وَهُمْ يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ لا خَيْرَ إِلا خَيْرُ الآخِرَةْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةْ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عوف نامی ایک قبیلے میں پڑاؤ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں چودہ دن تک مقیم رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار کے گروہ کو پیغام بھجوایا، وہ لوگ اپنی تلواریں (گردنوں میں) لٹکا کر آئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، بنو نجار کا ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان کے پاس تشریف لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز ادا کر لیتے تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار کے کچھ افراد کو پیغام بھجوایا، وہ لوگ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو نجار! اپنے اس باغ کی قیمت میرے ساتھ طے کر لو۔“ ان لوگوں نے عرض کی: جی نہیں اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت آپ سے نہیں لیں گے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس باغ میں کیا تھا، وہ میں تمہیں بتاتا ہوں، اس میں کچھ مشرکین کی قبریں تھیں، کھجوروں کے درخت تھے اور کھیت تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مشرکین کی قبریں برابر کر دی گئیں، کھیت کو برابر کر دیا گیا اور کھجور کے درخت کو مسجد میں قبلہ کی سمت میں رکھ دیا گیا، اور ان کے دونوں طرف پتھر لگا دیے گئے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ پتھر نقل کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ رجز پڑھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے، یہ حضرات یہ کہتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2328]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 234، 428، 429، 1868، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 524، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 788، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1385، 2328، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 701، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 783، وأبو داود فى (سننه) برقم: 453، والترمذي فى (جامعه) برقم: 350، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12361» «رقم طبعة با وزير 2322»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (477 - 487): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، جعفر بن مهران السبّاك روى عن جمع وروى عنه جمع، وأورده ابن أبي حاتم 2/ 491 فلم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا، وذكره المؤلف في " ثقاته "، ومن فوقه على شرطهما، أبو التياح: هو يزيد بن حميد الضبعي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2328 in Urdu
يزيد بن حميد الضبعي ← أنس بن مالك الأنصاري