صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
863. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن هذه الصلاة لم تكن بين الطوافين وبين المصطفى صلى الله عليه وسلم سترة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس نماز میں طواف کرنے والوں اور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھی
حدیث نمبر: 2364
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، قال:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَذْوَ الرُّكْنِ الأَسْوَدِ، وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ سُتْرَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ مُرُورِ الْمَرْءِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّى إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ يَسْتَتِرُ بِهَا، وَهَذَا كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ بْنِ صُبَيْرَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَهْمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هُصَيْصِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ السَّهْمِيُّ.
سیدنا مطلب بن ابووداعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ حجرِ اسود کے مدمقابل کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے، مرد اور خواتین آپ کے سامنے سے گزر رہے تھے، آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب کوئی نمازی سترہ کو رکاوٹ بنائے بغیر نماز ادا کر رہا ہو، تو اس کے آگے سے گزرنا مباح ہے۔ کثیر بن کثیر نامی راوی کثیر بن کثیر بن مطلب بن ابووداعہ بن صبیرہ بن سعید بن سعد بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لؤی سہمی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2364]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 815، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2363، 2364، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 939، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 757، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2016، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2958، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27884، 27885، والحميدي فى (مسنده) برقم: 588» «رقم طبعة با وزير 2358»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر ما قبله، وزهير بن محمد العنبري: هو التميمي نزيل مكة، ورواية أهل الشام عنه غير مستقيمة فضعف بسببها، وهذا الحديث رواه عنه الوليد بن مسلم وهو شامي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2364 in Urdu
كثير بن المطلب القرشي ← المطلب بن أبي وداعة القرشي