صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
880. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن هذه الصلاة التي كان الحمار يمر قدامهم فيها كانوا يصلون لعنزة تركز بين أيديهم والعنزة تمنع من قطع الصلاة وإن مر قدامهم الحمار والكلب والمرأة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس نماز میں، جس میں گدھا ان کے سامنے سے گزرتا تھا، ان کے سامنے ایک نیزہ نصب تھا اور یہ نیزہ گدھے، کتے، اور عورت کے گزرنے سے نماز کو ٹوٹنے سے روکتا تھا
حدیث نمبر: 2382
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ، فَجَاءَ بِلالٌ فَأَذَّنَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا، قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي بِقَوْلِ: حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَالَ: وَأَخْرَجَ فَضْلَ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ مِنْ بَيْنِ نَائِلٍ، وَنَاضِحٍ، حَتَّى جَعَلَ الصَّغِيرُ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ إِبَاطِ الْقَوْمِ فَيُصِيبُ ذَلِكَ، وَرَكَزَ بِلالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً، فَيَمُرُّ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ لا يُمْنَعُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ" .
عون بن ابو جحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سرخ خیمے میں موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ بھی تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اذان دی، انہوں نے (اذان دیتے ہوئے) اپنا منہ اس طرف بھی پھیرا اور اس طرف بھی پھیرا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یعنی «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ کہتے ہوئے ایسا کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے، تو کچھ لوگوں کو وہ پانی ملا اور کچھ کو نہیں ملا، یہاں تک کہ ایک کم سن بچے نے لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس پانی تک پہنچ گیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے) پھر گدھے یا عورت یا کتے کے (اس کے دوسری طرف سے گزرنے پر) منع نہیں کیا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لانے تک دو، دو رکعات ہی ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2382]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 187، 376، 495، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 503، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1268، 2334، 2382، 2394، 7293، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 520، 688، والترمذي فى (جامعه) برقم: 197، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 711، 3628، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19045» «رقم طبعة با وزير 2375»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (533 و 689).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، علي بن إشكاب: صدوق روى له أبو داود وابن ماجه، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين، وقد تقدم برقم (2334) من طريق محمد بن بشار، عن عبد الرحمن، عن سفيان.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2382 in Urdu
عون بن أبي جحيفة السوائي ← وهب بن وهب السوائي