صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
883. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أول هذا الخبر موقوف غير مسند
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ اس خبر کا پہلا حصہ موقوف ہے، نہ کہ مسند
حدیث نمبر: 2385
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ صَلاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ: الْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ؟، فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گدھا سیاہ کتا اور عورت آدمی (کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو منقطع کر دیتے ہیں جب آدمی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی (کوئی چیز سترے کے طور پر) نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے) دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیاه (کتا) شیطان ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2385]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2378»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، محمد بن كثير: هو العبدي.
الرواة الحديث:
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري