صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
914. باب الوتر - ذكر خبر عاشر يدل على أن الوتر غير فرض على أحد من المسلمين
وتر نماز کا بیان - دسویں خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ وتر کسی بھی مسلمان پر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2419
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ:" إِنَّكَ تَقْدُمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوهُ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَذَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الاسْتِدْلالُ بِمِثْلِ هَذِهِ الأَخْبَارِ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ تَكْثُرُ فِيمَا ذَكَرْنَا مِنْهَا غُنْيَةٌ لِمَنْ وَفَقَّهُ اللَّهُ لِلسَّدَادِ، وَهَدَاهُ لِسُلُوكِ الرَّشَادِ أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ، وَكَانَ بَعْثُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ خُرُوجِهِ مِنَ الدُّنْيَا بِأَيَّامٍ يَسِيرَةٍ، وَأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، وَلَوْ كَانَ الْوِتْرُ فَرْضًا، أَوْ شَيْئًا زَادَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلنَّاسِ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ كَمَا زَعَمَ مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا، لأَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَنْ يُخْبِرَهُمْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا فَرَضَ عَلَيْهِمْ سِتَّ صَلَوَاتٍ لا خَمْسًا، فَفِيمَا وَصَفْنَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو، تم نے سب سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جب وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیں، تو تم نے انہیں بتانا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ ایسا کریں، تو تم نے انہیں بتانا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے اموال میں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی، اگر وہ اس بارے میں تمہاری اطاعت کریں، تو تم ان سے زکوۃ کی وصولی کر لینا اور لوگوں کے عمدہ حاصل کرنے سے بچنے کی کوشش کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس نوعیت کی روایات سے اس بات پر استدلال کیا جا سکتا ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں اور ہم نے جو چیز پہلے ذکر کی ہے اس میں بکثرت اس بات کا بیان موجود ہے جو اس شخص کو بے نیاز کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ سیدھے راستے کی توفیق عطا کرے اور ہدایت کے راستے کی طرف اس کی راہنمائی کرے کہ وتر فرض نہیں ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا اور آپ نے دنیا سے تشریف لے جانے سے کچھ دن پہلے بھیجا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ ان لوگوں کو بتا دیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“ اگر وتر بھی فرض ہوتے یا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی نماز میں مزید کسی بات کا اضافہ کیا ہوتا جیسا کہ وہ شخص اس بات کا قائل ہے جو علم حدیث سے ناواقف ہے اور صحیح اور غیر مستند روایات کے درمیان تمیز نہیں کر سکتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کرتے کہ ”اللہ تعالیٰ نے ان پر چھ نمازیں فرض کی ہیں، پانچ نمازیں فرض نہیں کی ہیں“ تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں۔ باقی توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہو سکتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1395، 1458، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 19، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 156، 2419، 5081، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2434، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1584، والترمذي فى (جامعه) برقم: 625، 2014، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1783، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2100» «رقم طبعة با وزير 2410»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (156).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر (156).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2419 in Urdu
نافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي