صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
920. باب الوتر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الصلاة ركعة واحدة غير جائز
وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ایک رکعت کی نماز جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 2425
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، قَالَ:" فَقَامَ حُذَيْفَةُ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ: صَفًّا خَلْفَهُ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاءِ مَكَانَ هَؤُلاءِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَلَمْ يَقْضُوا" .
ثعلبہ زہدم بیان کرتے ہیں: ہم سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں موجود تھے، انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ خوف ادا کی ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے پیچھے لوگوں کی دو صفیں بنائیں، ایک صف ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی، انہوں نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ پلٹ کر ان لوگوں کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے، تو انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان حضرات نے اپنی نماز کو مکمل نہیں کیا (یعنی صرف ایک ہی رکعت ادا کی دوسری رکعت ادا نہیں کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1343، 1365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1452، 2425، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1249، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1528، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1246، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23740» «رقم طبعة با وزير 2416»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (3/ 44)، «صحيح أبي داود» (1133).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، ثعلبة بن زهدم، قيل: له صحبة، ولا يصح، وهو تابعي ثقة روى له أبو داود والنسائي، وباقي السند على شرطهما.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥ثعلبة بن زهدم الحنظلي ثعلبة بن زهدم الحنظلي ← حذيفة بن اليمان العبسي | والأكثر أنه صحابي، مختلف في صحبته | |
👤←👥الأسود بن هلال المحاربي، أبو سلام الأسود بن هلال المحاربي ← ثعلبة بن زهدم الحنظلي | مخضرم ثقة جليل | |
👤←👥أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي ← الأسود بن هلال المحاربي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن خزيمة السلمي، أبو بكر ابن خزيمة السلمي ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة حجة |
Sahih Ibn Hibban Hadith 2425 in Urdu
ثعلبة بن زهدم الحنظلي ← حذيفة بن اليمان العبسي