صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
949. باب النوافل - ذكر ما يستحب للمرء المواظبة على الركعات المعلومة من النوافل قبل الفرائض وبعدها
نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ فرائض سے پہلے اور بعد میں معلوم نفلی رکعتوں کی پابندی کرے
حدیث نمبر: 2454
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ" . وَأَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي لِصَلاةِ الصُّبْحِ، وَكَانَتْ سَاعَةٌ لا يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِيهَا أَحَدٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے، اس کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے، مغرب کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی اذان ہو جانے کے بعد فجر کی نماز سے پہلے دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: یہ ایسا وقت تھا، جس میں کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 618، 937، 1165، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 723، وابن الجارود فى "المنتقى"، 304، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1111، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1587، 2454، 2462، 2473، 2476، 2479، 2487، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1076، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 582، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1127، 1128، 1130، والترمذي فى (جامعه) برقم: 425، 433، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1131، 1145، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4593، والحميدي فى (مسنده) برقم: 290» «رقم طبعة با وزير 2445»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1138): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، فإن مسدّد بن مسرهد لم يخرج له مسلم، ومن فوقه من رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2454 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية