یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
997. باب النوافل - ذكر الخبر الدال على أن هذا الرجل لم تفته صلاة أمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يقضيها كما زعم من حرف الخبر عن جهته وتأول له ما وصفت
نفل نمازوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس شخص سے کوئی نماز نہیں چھوٹی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قضاء کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اس نے خبر کو اس کی سمت سے ہٹایا اور اس کی جو تشریح ہم نے بیان کی
حدیث نمبر: 2505
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ" تَصَدَّقُوا"، فَتَصَدَّقُوا، فَأَعْطَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا، وَقَالَ:" تَصَدَّقُوا"، فَأَلْقَى هُوَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ وَقَالَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَلَمْ تَفْعَلُوا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَأَعْطَوْهُ ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، خُذْ ثَوْبَكَ"، وَانْتَهَرَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ ثَوْبَكَ"، لَفْظَةُ أَمْرٍ بِأَخْذِ الثَّوْبِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّهِ وَهُوَ بَذْلُ الثَّوْبِ، وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا أَخْرَجَ شَيْئًا لِلصَّدَقَةِ فَمَا لَمْ يَقَعْ فِي يَدِ الْمُتَصَدِّقِ بِهِ عَلَيْهِ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهِ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ غَيْرُ مُسْتَحَبٍّ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ كُلِّهِ إِلا عِنْدَ الْفَضْلِ عَنْ نَفْسِهِ وَعَمَّنْ يَقُوتُهُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ حکم دیا، وہ دو رکعات ادا کر لے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ صدقہ کرو انہوں نے صدقہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دیئے ہوئے صدقے سے دو کپڑے اس شخص کو دیئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ صدقہ کرو تو اس شخص نے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا پیش کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا یہ عمل اچھا نہیں لگا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی طرف دیکھو، یہ بری حالت میں مسجد میں آیا تھا مجھے یہ امید تھی، تم لوگ اس کی حالت کا اندازہ لگا کر اس کو صدقہ دے دو گے لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو میں نے کہا: تم لوگ صدقہ دو پھر لوگوں نے اسے دو کپڑے صدقہ دیئے پھر میں نے کہا: تم لوگ صدقہ دو اس نے ان دو کپڑوں میں سے ایک کو پیش کر دیا (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا) تم اپنا کپڑا لے لو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم اپنے کپڑے حاصل کر لو“ یہاں لفظی طور پر کپڑے حاصل کرنے کا حکم ہے لیکن اس سے مراد اس کی برعکس صورت حال سے منع کرنا ہے اور وہ اپنے کپڑے کو (اللہ کی راہ میں) دینا ہے اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب کوئی شخص صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نکالتا ہے اور ابھی وہ اس شخص کے ہاتھ میں نہیں گئی جسے وہ صدقے کے طور پر دینی تھی تو اس شخص کو اسے واپس لینے کا اختیار ہو گا اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لیے یہ بات مستحب نہیں ہے کہ وہ اپنے سارے مال کو صدقہ کر دے البتہ اس کے پاس اپنی ذات اور اپنی خوراک کے علاوہ اضافی مال موجود ہو، تو (وہ اسے خرچ کر سکتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2505]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1799، 1830، 2481، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2503، 2505، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1058، 1513، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1407، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1675، والترمذي فى (جامعه) برقم: 511، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1593، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1113، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11248» «رقم طبعة با وزير 2496»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1470).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابن عجلان وهو ثقة روى له البخاري تعليقاً ومسلم متابعة.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥عياض بن عبد الله العامري عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← عياض بن عبد الله العامري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← محمد بن عجلان القرشي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت | |
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى أبو يعلى الموصلي ← زهير بن حرب الحرشي | ثقة مأمون |
Sahih Ibn Hibban Hadith 2505 in Urdu
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري