صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1005. باب النوافل - ذكر تفضيل صلاة القائم على القاعد والقاعد على النائم
نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر پڑھنے سے اور بیٹھ کر پڑھنا لیٹ کر پڑھنے سے افضل ہے
حدیث نمبر: 2513
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ،، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ قَاعِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلِّ قَائِمًا، فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا إِسْنَادٌ قَدْ تَوَهَّمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الأَخْبَارِ، وَلا تَفَقَّهَ فِي صَحِيحِ الآثَارِ، أَنَّهُ مُنْفَصِلٌ غَيْرُ مُتَّصِلٍ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ وُلِدَ فِي السَّنَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سَنَةَ خَمْسَ عَشْرَةَ، هُوَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ بُرَيْدَةَ أَخُوهُ تَوْأَمٌ، فَلَمَّا وَقَعَتْ فِتْنَةُ عُثْمَانَ بِالْمَدِينَةِ خَرَجَ بُرَيْدَةُ عَنْهَا بِابْنَيْهِ، وَسَكَنَ الْبَصْرَةَ، وَبِهَا إِذْ ذَاكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ، فَسَمِعَ مِنْهُمَا، وَمَاتَ عِمْرَانُ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَخَمْسِينَ فِي وِلايَةِ مُعَاوِيَةَ، ثُمَّ خَرَجَ بُرَيْدَةُ مِنْهَا بِابْنَيْهِ إِلَى سِجِسْتَانَ، فَأَقَامَ بِهَا غَازِيًا مُدَّةً، ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا إِلَى مَرْوَ عَلَى طَرِيقِ هَرَاةَ، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَطَّنَهَا، وَمَاتَ سُلَيْمَانُ بْنُ بُرَيْدَةَ بِمَرْوَ وَهُوَ عَلَى الْقَضَاءِ بِهَا سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ، فَهَذَا يَدُلُّكُ عَلَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ نے ارشاد فرمایا: کھڑے ہو کر نماز ادا کرو یہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے، جو شخص بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے اس کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کے مقابلے میں نصف اجر ملتا ہے اور جو شخص لیٹ کر نماز ادا کرتا ہے، تو اسے بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے سے نصف اجر ملتا ہے ‘۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کی سند میں اس شخص کو وہم ہوا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا۔ جو مستند روایات کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا وہ اس بات کا قائل ہے کہ اس کی روایت میں انفصال پایا جاتا ہے اس کی سند متصل نہیں ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ عبداللہ بن بریدہ کی پیدائش سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے تیسرے سال میں ہوئی تھی۔ یہ سن پندرہ ہجری کی بات ہے یہ اور اس کے بھائی سلیمان بن بریدہ آگے پیچھے پیدا ہوئے تھے۔ جب مدینہ منورہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے کا فتنہ رونما ہوا تو بریدہ اپنے بچوں کو لے کر مدینہ منورہ سے چلے گئے تھے۔ انہوں نے بصرہ میں رہائش اختیار کی تھی۔ وہاں اس وقت سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ تو بریدہ نے ان دونوں سے احادیث کا سماع کر لیا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں باون ہجری میں ہوا پھر بریدہ وہاں سے اپنے بیٹوں کو لے کر سجستان چلے گئے۔ اور ایک طویل مدت تک ایک غازی کے طور پر وہاں مقیم رہے۔ پھر وہ وہاں سے نکلے اور مرو چلے گئے جو عراق کے راستے میں آتا ہے۔ وہ وہاں گئے تو اسے وطن بنا لیا سلیمان بن بریدہ کا انتقال مرو میں ہوا۔ وہ اس وقت وہاں کے قاضی بھی تھے اور یہ ایک سو پانچ ہجری کی بات ہے۔ یہ بات تمہاری رہنمائی اس طرف کرے گی کہ عبداللہ بن بریدہ نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2504»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (455)، «الروض النضير» (585)، «صحيح أبي داود» (877) «صفة الصلاة»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، الحسن بن حماد روى له أصحب السنن، وهو صدوق، ومن فوقه من رجال الشيخين، أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
الرواة الحديث:
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← عمران بن حصين الأزدي