صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1029. فصل في صلاة الضحى - ذكر استحباب الاقتداء بالمصطفى صلى الله عليه وسلم في صلاة الضحى بثمان ركعات
صلاة الضحی کا بیان - اس بات کا استحباب کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں چاشت کی نماز آٹھ رکعتوں کے ساتھ پڑھی جائے
حدیث نمبر: 2537
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجَرْتُ حَمَوَيَّ، فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي، تَعْنِي عَلِيًّا، أَنَّهُ قَاتِلُهُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ"، قَالَتْ: وَصَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبٍ عَلَيْهِ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ" .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے ابومرہ کو دیکھا ہے، وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے، انہیں سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی زیارت کا شرف حاصل تھا، وہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے دو دیوروں کو پناہ دی ہے اور میرے بھائی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی ہے، ہم بھی اسے پناہ دیتے ہیں۔“ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی انڈیلا اور غسل کیا، پھر کپڑے کو لحاف کے طور پر لپیٹ لیا، اس کے کنارے مخالف سمت میں (کندھوں) پر ڈال لیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2537]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 280، 357، 1103، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 336، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1131، 1132، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 237، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1187، 1188، 1189، 2537، 2538، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5246، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1290، 1291، 2763، والترمذي فى (جامعه) برقم: 474، 1579 م، 2734، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 465، 614، 1323، 1379، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27528» «رقم طبعة با وزير 2528»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (464).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2537 in Urdu
يزيد مولى عقيل ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية