صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1034. فصل في التراويح - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
تراویح کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2543
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى النَّاسُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَكَثُرَ النَّاسُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّى، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى كَثُرَ النَّاسُ، فَخَرَجَ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَكَثُرَ النَّاسُ حَتَّى عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَطَفِقَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الصَّلاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاةَ الْفَجْرِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْ ذَلِكَ"، وَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، يَقُولُ:" مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" ، قَالَ: فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَذَلِكَ كَانَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرٍ مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ، حَتَّى جَمَعَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَقَامَ بِهِمْ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ اجْتِمَاعِ النَّاسِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ فِي رَمَضَانَ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لے گئے، آپ نے مسجد میں نماز ادا کی، لوگوں نے بھی (آپ کی اقتداء میں) نماز ادا کی، اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو (دوسری رات) لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے نماز ادا کی تو لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی کی، اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیسری رات بھی تشریف لے گئے، آپ نے نماز ادا کی، لوگوں نے آپ کی نماز کی اقتداء کی، اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی یہاں تک کہ مسجد ان کے لیے کم پڑ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے، لوگ کہتے رہے: نماز (کے لیے تشریف لے آئیں) لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی، تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی: ” «أَمَّا بَعْدُ» ! گزشتہ رات تمہاری حالت مجھ سے مخفی نہیں تھی لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض قرار دے دی جائے گی اور تم اسے ادا نہیں کر پاؤ گے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں لوگوں کو نوافل ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے، آپ عزیمت کے ساتھ انہیں حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ ارشاد فرماتے تھے: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر میں نوافل ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش کر دے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو یہ معاملہ یوں ہی رہا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد کے ابتدائی دور میں معاملہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے اکٹھا کیا، تو وہ رمضان میں انہیں تراویح پڑھایا کرتے تھے، یہ لوگوں کا وہ پہلا اجتماع تھا جو رمضان میں کسی قاری کے پیچھے ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2543]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 924، 1129، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 761، الجارود فى "المنتقى"، 442، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1128، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 141، 2542، 2543، 2544، 2545، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1603، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1373، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4675، 4676، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25999» «رقم طبعة با وزير 2534»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق نحوه - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2543 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق