صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1056. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن الصلاة في آخر الليل تكون محضورة بحضرة الملائكة
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ رات کے آخر میں نماز فرشتوں کی موجودگی میں ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2565
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے جس شخص کو یہ اندیشہ ہو، وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا، تو وہ رات کے ابتدائی حصے میں وتر ادا کر لے اور تم میں سے جس شخص کو یہ امید ہو، وہ رات کے آخری حصے میں نوافل ادا کرے گا، تو اسے رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرنا چاہئے کیونکہ رات کے آخری وقت میں کی جانے والی قرأت میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہیں اور بیہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2556»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (1025)، «الصحيحة» (2610): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري