صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1129. فصل في قيام الليل - ذكر السبب الذي من أجله كان ينام صلى الله عليه وسلم آخر الليل النومة التي وصفناها
قیام الليل کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخر میں ہمارے بیان کردہ ہلکی نیند کیوں سوتے تھے
حدیث نمبر: 2638
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةُ الْمَرْءِ بِأَهْلِهِ كَانَ، فَإِذَا سَمِعَ الأَذَانَ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَإِلا تَوَضَّأَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَخْبَارُ لَيْسَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ، وَإِنْ تَبَايَنَتْ أَلْفَاظُهَا وَمَعَانِيهَا مِنَ الظَّاهِرِ، لأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ عَلَى الأَوْصَافِ الَّتِي ذُكِرَتْ عَنْهُ، لَيْلَةً بِنَعْتٍ وَأُخْرَى بِنَعْتٍ آخِرَ، فَأَدَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَا رَأَى مِنْهُ، وَأَخْبَرَ بِمَا شَاهَدَ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ صَفِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لأُمَّتِهِ قَوْلا وَفِعْلا، فَدَلَّنَا تَبَايُنُ أَفْعَالِهِ فِي صَلاةِ اللَّيْلِ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ مُخَيَّرٌ بَيْنَ أَنْ يَأْتِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ الَّتِي فَعَلَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ بِاللَّيْلِ دُونَ أَنْ يَكُونَ الْحُكْمُ لَهُ فِي الاسْتِنَانِ بِهِ فِي نَوْعٍ مِنْ تِلْكَ الأَنْوَاعِ لا الْكُلِّ.
اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل ادا کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سحری کا وقت قریب آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کر لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خواہش ہوتی جو کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ ہوتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پوری کر لیتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کی آواز سنتے تو جلدی سے اٹھ جاتے، اگر جنابت کی حالت میں ہوتے تو غسل کر لیتے ورنہ وضو کر کے نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، اگرچہ بظاہر اور معانی میں اختلاف محسوس ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت مختلف (تعداد میں) نوافل ادا کرتے تھے، ایک رات میں ایک طریقے کے مطابق اور دوسری رات میں دوسرے طریقے کے مطابق ادا کرتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طریقے کے مطابق نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اسے آگے بیان کر دیا اور جو مشاہدہ کیا، اس کے بارے میں خبر دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو ان کی اُمت کے لیے زبانی اور عملی طور پر معلم بنا کر بھیجا تھا، تو رات کے نوافل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کا اختلاف اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ آدمی کو اس بارے میں اختیار ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رات کے نوافل کے بارے میں جو طریقہ بھی اختیار کیا، آدمی ان میں سے کسی ایک طریقے کے مطابق نوافل ادا کر لے، ایسا نہیں ہے کہ اس کے لیے یہ حکم ہو کہ وہ ان میں سے کسی ایک طریقے کی ہی پیروی کر سکتا ہے اور تمام طریقوں کی پیروی نہیں کر سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2638]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 286، 288، 1146، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 305، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 213، 215، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1217، 1218، 2589، 2593، 2638، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 255، وأبو داود فى (سننه) برقم: 222، بدون ترقيم، 224، 228، 1363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 118، 119، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 581، 582، 583، والدارقطني فى (سننه) برقم: 453، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24717،» «رقم طبعة با وزير 2629»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (223).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2638 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق