صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1147. باب سجود السهو - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
سجدہ سهو کرنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2657
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَادَ، أَوْ نَقَصَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لَوْ حَدَثَ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقُومُ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَلَى ابْنَتِهِ، ثِقَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے کچھ اضافہ کر دیا یا شاید کمی کی آپ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں میں اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو تم میں سے جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ اس بات کا جائزہ لے کونسی صورت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے اور پھر اسی کی بنیاد پر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے اور پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابراہیم بن مغیرہ نامی راوی عبداللہ بن مبارک کا داماد ہے۔ اور یہ ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2647»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود