🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1325. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن من صلى صلاة الكسوف التي ذكرناها عليه أن يختم صلاته بالتشهد والتسليم
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص ہمارے بیان کردہ صلاة الكسوف پڑھے، اسے اپنی نماز تشہد اور سلام کے ساتھ مکمل کرنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2842
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ،، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ سُنَّةِ صَلاةِ الْكُسُوفِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا، فَنَادَى أَنَّ الصَّلاةَ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا مِثْلَ قِيَامِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلا وَهُوَ أَدْنَى مِنْ رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلُ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى فِي الْقِيَامِ الثَّانِي، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ أَدْنَى مِنْ سُجُودِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَقَامَ فِيهِمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِنْ خُسِفَ بِهِمَا أَوْ بِأَحَدِهِمَا فَافْزَعُوا إِلَى اللَّهِ وَالصَّلاةِ" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: وَاللَّهِ مَا صَنَعَ هَذَا أَخُوكَ عَبْدُ اللَّهِ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ، وَمَا صَلَّى إِلا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: أَجَلْ، كَذَلِكَ صَنَعَ، وَأَخْطَأَ السُّنَّةَ.
عبدالرحمن بن نمر بیان کرتے ہیں: انہوں نے زہری سے نماز کسوف کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں بتایا، عروہ بن زبیر نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سورج گرہن ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، اس نے یہ اعلان کیا باجماعت نماز ہونے لگی ہے لوگ اکٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام جتنا تھا یا شاید اس سے کچھ زیادہ لمبا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی لیکن یہ پہلے قیام سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سجدے کیے لیکن یہ رکوع سے کچھ کم تھے یا شاید کچھ طویل تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور کھڑے ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی اور طویل قرأت کی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع اللہ لمن حمدہ» پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی لیکن یہ دوسرے قیام کی پہلی قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر سر کو اٹھایا اور «سمع اللہ لمن حمدہ» پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا لیکن یہ پہلے والے سجدوں سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہاللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں اگر ان دونوں کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے، تو اللہ (کے ذکر) اور نماز کی طرف آؤ۔ زہری کہتے ہیں میں نے عروہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے تو اس طرح نہیں کیا تھا جب وہ مدینہ منورہ میں تھے اور سورج گرہن ہوا تھا انہوں نے صرف دو رکعات ادا کی تھیں جو صبح کی نماز کی مانند ہوتی ہیں، تو عروہ نے کہا: جی ہاں انہوں نے اسی طرح کیا تھا انہوں نے سنت کے برخلاف کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2831»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1072): خ (1076)، م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عمرو بن عثمان صدوق ومن فوقه من رجال الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عبد الرحمن بن نمر اليحصبي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن نمر اليحصبي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن نمر اليحصبي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص
Newعمر بن محمد الهمذاني ← عمرو بن عثمان القرشي
ثقة