صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1328. باب صلاة الكسوف - ذكر ما يستحب للمرء أن يكثر من التكبير لله جل وعلا مع الصدقة إذا أراد الصلاة لكسوف الشمس أو القمر
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ سورج یا چاند گرہن کی نماز کے لیے تیاری کرتے وقت اللہ جل وعلا کی کثرت سے تکبیر کرے اور صدقہ دے
حدیث نمبر: 2845
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الأُولَى، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرِ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا" . وَقَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِي عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِي أُمَّتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا اور طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قیام کیا تو طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اس کی کبریائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اللہ کی قسم! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ جان لو تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2845]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2834»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1077)، «جزء الكسوف»، «الإرواء» (658): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2845 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق