صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1331. باب صلاة الكسوف - ذكر الخبر الدال على أن المرء إذا ابتدأ في صلاة الكسوف وصلى بعضها ثم انجلت عليه أن يتم باقي صلاته كسائر الصلوات لا كصلاة الكسوف
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آدمی صلاة الكسوف شروع کرے اور اس کا کچھ حصہ پڑھے پھر گرہن صاف ہو جائے تو اسے اپنی باقی نماز دیگر نمازوں کی طرح مکمل کرنی چاہیے، نہ کہ صلاة الكسوف کی طرح
حدیث نمبر: 2848
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ أَرْمِي بَأْسَهُمٍ بِالْمَدِينَةِ، إِذْ خَسَفَتْ فَنَبَذْتُهَا"، فَقُلْتُ:" وَاللَّهِ لأَنْظُرَنَّ مَا يُحَدِّثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ" قَالَ:" فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَائِمٌ فِي الصَّلاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يُسَبِّحُ، وَيَحْمَدُ، وَيُكَبِّرُ، وَيُهَلِّلُ، وَيَدْعُو، حَتَّى حَسَرَ، فَلَمَّا حَسَرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" .
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تیر اندازی کر رہا تھا اسی دوران سورج گرہن ہو گیا میں نے تیر ایک طرف رکھے میں نے سوچا: اللہ کی قسم! آج میں اس بات کا ضرور جائزہ لوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے بارے میں کیا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سبحان الله الحمدالله الله اكبر لا اله الا اللہ» پڑھ رہے تھے دعا مانگ رہے تھے یہاں تک کہ جب گرہن ختم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتوں کی تلاوت کی پھر دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2848]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2837»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - على أن المراد أن ذلك في كل ركعة؛ كما في حديث عائشة (2830) - «صحيح أبي داود» (1080): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
حيان بن عمير الجريري ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي