صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1356. باب صلاة الخوف - ذكر النوع الثاني من صلاة الخوف على حسب الحاجة إليها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے دوسرے نوع کا ذکر حسب ضرورت
حدیث نمبر: 2873
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ" قَالَتْ:" فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ، فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ، وِجَاهَ الْعَدُوِّ"، قَالَتْ:" فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعُوا وَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى، حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبِّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ رَكْعَتِهِ وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا، فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَرِيعًا جِدًّا، لا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلاتِهِ كُلِّهَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتِ رقاع کے مقام پر نمازِ خوف ادا کی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہو گیا؛ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو جس گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی ہوئی تھی ان لوگوں نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ لوگ بھی رکوع میں گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ لوگ بھی سجدے میں گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو وہ لوگ بھی اٹھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے خود ہی دوسری مرتبہ سجدہ کیا اور پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے، اپنی ایڑیوں کے بل چلتے ہوئے پیچھے چلے گئے یہاں تک کہ وہ پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے اور دوسرا گروہ آگے آ گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، ان لوگوں نے تکبیر کہی پھر ان لوگوں نے بذاتِ خود ایک رکعت ادا کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رکعت سے کھڑے ہو گئے، ان لوگوں نے دوسرا سجدہ بذاتِ خود کیا، پھر دونوں گروہ کھڑے ہو گئے، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ سب بھی رکوع میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ سب بھی سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو ان لوگوں نے بھی سر اٹھا لیا، ان میں سے ہر ایک عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی تیزی سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی، جہاں تک ہو سکے مختصر طور پر (رکوع اور سجدہ کیا)، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو تمام لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شرکت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1363، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2873، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1254، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1242، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26996» «رقم طبعة با وزير 2862»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1131).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2873 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق