صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من توطين النفس على تحمل ما يستقبلها من المحن والمصائب
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ اپنے نفس کو اس کی سامنے آنے والی آزمائشوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار کرے
حدیث نمبر: 2900
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاءً؟ قَالَ:" الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ، وَيُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَدَعَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ، وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ" .
مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! سب سے زیادہ آزمائش کا سامنا کن لوگوں کو کرنا پڑتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کو، پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو) بندے کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور آزمائش مسلسل بندے کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ اسے ایسی حالت میں کر دیتی ہے، وہ زمین پر چلتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2889»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري