صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الخبر الدال على أن الله قد يعذب من شاء من عباده في الدنيا بأنواع المحن والمصائب لتكون تكفيرا للحوبة التي تقدمتها
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنی مرضی سے اپنے بندوں کو دنیا میں مختلف آزمائشوں اور مصیبتوں سے عذاب دے سکتا ہے تاکہ وہ اس سے پہلے کی گئی خطاؤں کا کفارہ بنے
حدیث نمبر: 2912
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ يُرِيدُ الشَّامَ، فَلَمَّا دَنَا، بَلَغَهُ أَنَّ بِهَا الطَّاعُونَ، فَحَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ لَسْتُمْ بِهَا، فَلا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا، فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" ، فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ ذَلِكَ الْعَامَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: إِخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الأَنْبِيَاءِ وَالأُمَمِ السَّالِفَةِ عَلَى ثَلاثَةِ أَضْرُبٍ: ضَرْبٌ قَصَدَ بِهِ الْمَدْحَ لأَشْيَاءَ مَعْلُومَةٍ، أَرَادَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ اسْتِعْمَالَ تِلْكَ الأَشْيَاءِ، وَالضَّرْبُ الثَّانِي قَصَدَ بِهِ الذَّمَّ، أَرَادَ بِهِ انْزِجَارُ هَذِهِ الأُمَّةِ عَنِ ارْتِكَابِ مِثْلِهَا، وَالضَّرْبُ الثَّالِثُ قَصَدَ بِهِ الْوَصْفَ، أَرَادَ بِهِ اعْتِبَارَ هَذِهِ الأُمَّةِ بِتِلْكَ الأَوْصَافِ.
عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے جب وہ شام کے قریب پہنچے، تو انہیں اطلاع ملی کہ وہاں طاعون کی وباء پھیل چکی ہے، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک یہ تکلیف ایک عذاب ہے، جس کے ذریعے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جہاں تم موجود نہیں ہو، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ ایسی سرزمین پر واقع ہو جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نہ نکلو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سال لوگوں کو لے کر واپس آ گئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کرام اور سابقہ امتوں کے بارے میں اطلاع دینا تین نوعیت کا ہے۔ پہلی قسم یہ ہے: آپ نے کچھ متعین چیزوں کی تعریف کی ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ یہ امت ان چیزوں پر عمل کرے۔ دوسری قسم یہ ہے: آپ نے کچھ چیزوں کی مذمت بیان کی ہو اور آپ کی مراد یہ ہو کہ یہ امت اس نوعیت کے کاموں کے ارتکاب سے بچ جائے اور تیسری قسم یہ ہے: آپ نے کوئی صفت بیان کی ہو اور آپ کا ارادہ یہ ہو کہ یہ امت اس صفت سے عبرت حاصل کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2901»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عبد الله بن عامر العنزي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري