الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
59. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء من تقديم الفرط لنفسه
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے لیے فرط (بچوں کی موت) پیش کرے
حدیث نمبر: 2950
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ؟" قَالَ: قُلْنَا: الَّذِي لا يُولَدُ لَهُ، قَالَ:" لَيْسَ ذَلِكَ بِالرَّقُوبِ، وَلَكِنِ الَّذِي لا يُقَدِّمُ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا"، قَالَ:" فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ؟" قُلْنَا: الَّذِي لا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ:" لَيْسَ ذَاكَ، وَلَكِنِ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اپنے درمیان رقوب کیسے سمجھتے ہو راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: وہ شخص جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ رقوب نہیں ہے بلکہ رقوب وہ ہے، جس کے کسی بچے کا انتقال نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم اپنے درمیان پہلوان کے سمجھتے ہو۔ ہم نے عرض کی: جسے کوئی شخص پچھاڑ نہ سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ نہیں ہے بلکہ (پہلوان وہ ہے) جو غضب کے عالم میں اپنے اوپر ق ابورکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2939»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3406): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
الحارث بن سويد التيمي ← عبد الله بن مسعود