🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الزجر عن القدوم على البلد الذي وقع فيه الطاعون والخروج منه من أجله
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس شہر میں جائے جہاں طاعون پھیلا ہو یا وہاں سے اس کی وجہ سے نکلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2953
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ، لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَالَ عُمَرُ: ادْعُ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوْلِينَ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: خَرَجْتَ لأَمْرٍ فَلا أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلافِهِمْ، فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلانِ، وَقَالُوا: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ، فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ: أَفِرَارًا مِنْ قَدْرِ اللَّهِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلافَهُ نَفِرُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خِصِبَةٌ، وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخِصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے، جب وہ سرغ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات لشکر کے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس مہاجرینِ اولین کو بلا کر لاؤ۔ میں ان لوگوں کو بلا کر لایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے، تو ان لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔ ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ آپ جس کام کے لیے نکلے ہیں ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ اسے چھوڑ کر واپس چلے جائیں، جبکہ بعض کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ گنے چنے لوگ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب موجود ہیں، اس لیے ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ کو وبائی علاقے میں جانا چاہیے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں۔ پھر انہوں نے فرمایا: میرے پاس انصار کو بلا کر لاؤ۔ میں انہیں بلا کر لایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا تو وہ بھی مہاجرین کے راستے پر چلے اور ان کے درمیان بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے پاس قریش کے ان بوڑھوں کو بلا کر لاؤ جو فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آئے تھے۔ میں نے ان لوگوں کو بلایا تو اس بارے میں ان کے دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں ہوا، انہوں نے یہی کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو لوگوں کو لے کر واپس جانا چاہیے اور اس وبائی علاقے میں نہیں جانا چاہیے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا کہ ہم کل روانہ ہو جائیں گے آپ لوگ تیاری کر لیں۔ تو سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ کے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی (تو اتنا افسوس نہ ہوتا) اے ابوعبیدہ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ اختلاف کرنا پسند نہیں آیا، (انہوں نے فرمایا) ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہوئے اللہ کی تقدیر کی طرف جا رہے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے پاس اونٹ ہوں اور آپ انہیں کسی ایسی وادی میں لے کر اتریں جس کے ایک طرف سرسبز و شاداب جگہ اور دوسری طرف خشک سالی ہو، تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ انہیں سرسبز جگہ پر چراتے ہیں تو یہ بھی اللہ کی تقدیر کے مطابق ہے اور اگر آپ انہیں خشک جگہ پر چرنے کے لیے چھوڑتے ہیں تو آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق چراتے ہیں؟ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے، وہ اس وقت کسی کام کے سلسلے میں موجود نہیں تھے، انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں میرے پاس علم موجود ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی سرزمین پر ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور وہاں سے واپس آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5729، 5730، 6973، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2219، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2912، 2953،وأبو داود فى (سننه) برقم: 3103، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6652، 14357، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1688» «رقم طبعة با وزير 2942»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2717).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عوف الزهري، أبو محمدصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري
صحابي
👤←👥عبد الله بن الحارث الهاشمي، أبو يحيى
Newعبد الله بن الحارث الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي، أبو عمر
Newعبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي ← عبد الله بن الحارث الهاشمي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر
Newعمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 2953 in Urdu