صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
267. فصل في زيارة القبور - ذكر الزجر عن دخول المقابر بالنعال
قبروں کی زیارت کے بیان میں فصل - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مقبروں میں جوتوں کے ساتھ داخل ہوا جائے
حدیث نمبر: 3170
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْخَصَاصِيَةَ ، وكان اسمه في الجاهلية زحم بن معبد، فقال له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اسْمُكَ؟" قَالَ: زَحْمٌ، قَالَ:" أَنْتَ بَشِيرٌ" فَكَانَ اسْمُهُ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ؟" قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا، كُلُّ خَيْرٍ فَعَلَ اللَّهُ بِي، فَأَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" سَبَقَ هَؤُلاءِ خَيْرًا كَثِيرًا" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ:" لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلاءِ خَيْرًا كَثِيرًا" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ وَعَلَيْهِ نَعْلانِ، فَنَادَاهُ:" يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ" فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَرَمَى بِهِمَا ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: كُنْتُ أَكُونَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، فِي الْجَنَائِزِ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَقَابِرَ حَدَّثَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثٌ جَيِّدٌ، وَرَجُلٌ ثِقَةٌ، ثُمَّ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَمَشَى بَيْنَ الْقُبُورِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ تِلْكَ مِنْ جِلْدِ مَيْتَةٍ لَمْ تُدْبَغْ، فَكَرِهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُبْسَ جِلْدِ الْمَيْتَةِ، وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ"، دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ دُخُولِ الْمَقَابِرِ بِالنِّعَالِ.
بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں: سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ان کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تمہارا نام کیا ہے انہوں نے جواب دیا: زحم۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بشیر ہو، تو پھر یہی ان کا نام ہو گیا وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خصاصیہ کے صاحب زادے! کیا تم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ تمہیںاللہ تعالیٰ سے کوئی ناراضگی ہے۔ میں نے عرض کی: میں نے ایسی حالت میں صبح نہیں کی کہ مجھےاللہ تعالیٰ سے کوئی ناراضگی ہواللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی بھلائی مجھے عطا کر دی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مشرکین کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ بہت زیادہ بھلائی سے آگے چلے گئے ہیں یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کر لی ہے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی، تو ایک شخص قبروں کے درمیان چل رہا تھا اس نے جوتے پہنے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلند آواز میں پکارا اے جوتوں والے شخص! اپنے جوتے اتار دو اس شخص نے دیکھا جب اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا، تو اس نے اپنے جوتے اتار کر ایک طرف رکھ دیئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس بات کا امکان موجود ہے: وہ جوتے کسی مردار کی کھال کے بنے ہوئے ہوں جس کی دباغت نہ کی گئی ہو۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال کو پہننے کو ناپسند کیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ ان لوگوں کی جوتوں کی آہٹ سنتا ہے جب وہ اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں۔“ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے: جوتے پہن کر قبرستان میں داخل ہونا مباح ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3160»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الأحكام» (172 - 173)، «الإرواء» (760).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
بشير بن نهيك السدوسي ← بشير بن الخصاصية السدوسي