صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أبي هريرة الذي ذكرناه
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ابو ہریرہ کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3217
أَخْبَرَنَا الْرِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحُوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الآخِرُونَ وَالأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَسْفَلُونَ، إِلا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَيَحْثِي بِثَوْبِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(دنیا میں آنے کے حساب سے) ہم آخر والے ہیں، لیکن قیامت کے دن پہلے والے ہوں گے (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت والے لوگ (آخرت میں اجر و ثواب کے اعتبار سے) کم حیثیت کے مالک ہوں گے، ماسوائے اس شخص کے، جو اپنے دائیں طرف اپنے بائیں طرف اپنے پیچھے اپنے آگے اس طرح اور اس طرح کہے اور اپنے کپڑے کو پھیلائے (یعنی اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرے)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3217]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3207»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2412)، «التعليق الرغيب» (4/ 108).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح
الرواة الحديث:
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود