صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
54. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر خبر ثان يوهم مستمعيه أن لا يجب على المسلم أن يموت ويخلف شيئا من هذه الدنيا لمن بعده
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو سننے والوں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ مسلمان کے لیے لازم نہیں کہ وہ اس دنیا سے کچھ چھوڑ کر مرے
حدیث نمبر: 3264
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحِيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنَ الأَكُوَعِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا؟"، قَالُوا: لا، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: ثَلاثَةُ دَنَانِيرَ، قَالَ:" ثَلاثُ كَيَّاتٍ"، ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّانِيَةِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ دَيْنُهُ، قَالَ:" فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: تین دینار۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین ایسی چیزیں جن سے داغ لگایا جائے گا۔ ایک اور جنازہ آیا لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نماز جنازہ ادا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے۔ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ انصار میں سے ایک صاحب جن کا نام سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3253»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 44).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي