صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
112. صدقة التطوع - ذكر ما يستحب للإمام سؤال رعيته الصدقة على الفقراء إذا علم الحاجة بهم
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی رعایا سے فقراء کی ضرورت معلوم ہونے پر ان کے لیے صدقہ مانگے
حدیث نمبر: 3325
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، يوم فطر، وخرج رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ خَطَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا"، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ خَاتَمَهُ، وَالرَّجُلُ يَنْزِعُ ثَوْبَهُ، وَبِلالٌ يَقْبِضُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا، تَقَدَّمَ إِلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ، فَتَصَدَّقْنَ"، فَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُرْصَهَا وَخَاتَمَهَا، وَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُلْخَالَهَا، وَبِلالٌ يَقْبِضُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا أَقْبَلَ بِلالٌ وَأَقْبَلْنَا .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عیدالفطر کے دن نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عیدگاہ کی طرف تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، تو تم لوگ صدقہ و خیرات کرو۔ راوی کہتے ہیں: تو کسی نے اپنی انگوٹھی اتاری، کسی نے اپنا کپڑا اتارا (یعنی اضافی چادر اتاری) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کوئی شخص ایسا نہیں رہا جس نے کچھ دینا ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی طرف بڑھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خواتین کے گروہ یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، تو تم صدقہ کرو، تو کسی عورت نے اپنا ہار اتارا، کسی نے انگوٹھی اتاری، کسی نے اپنی پازیبیں اتاریں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ کیا کہ کوئی دینے والا باقی نہیں رہا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور ہم بھی واپس آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3325]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3315»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي