صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
54. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 3474
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، وَإِذَا أَذَّنَ بِلالٌ، فَلا تَأْكُلُوا وَلا تَشْرَبُوا، فَإِنْ كَانَتِ الُوَاحِدَةُ مِنَّا لَيَبْقَى عَلَيْهَا الشَّيْءُ مِنْ سَحُورِهَا، فَتَقُولُ لِبِلالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرَغَ مِنْ سَحُورِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ يُوهِمَانِ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَعَلَ اللَّيْلَ بَيْنَ بِلالٍ، وَبَيْنَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ نَوْبًا، فَكَانَ بِلالٌ يُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ لَيَالِيَ مَعْلُومَةً، لِيُنَبِّهَ النَّائِمَ، ويَرْجِعَ الْقَائِمُ، لا لِصَلاةِ الْفَجْرِ، وَيُؤَذِّنُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فِي تِلْكَ اللَّيَالِيَ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلاةِ الْغَدَاةِ، فَإِذَا جَاءَتْ نَوْبَةُ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، كَانَ يُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ لَيَالِيَ مَعْلُومَةً كَمَا وَصَفْنَا قَبْلُ، وَيُؤَذِّنُ بِلالٌ فِي تِلْكَ اللَّيَالِيَ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلاةِ الْغَدَاةِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتُرٌ.
سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب ابن ام مکتوم اذان دے، تو تم لوگ کھاتے پیتے رہو اور جب بلال اذان دے، تو تم کچھ کھاؤ پیو نہیں۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: بعض اوقات ہم میں سے کسی عورت کی سحری میں سے کچھ باقی ہوتا تھا، تو وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہتی تھی ابھی آپ ٹھہر جائیں میں پہلے سحری کر کے فارغ ہو جاؤں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): یہ دونوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سجھتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح صادق سے پہلے اذان دینے کی باری سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ میں باری، باری رکھی تھی تو کچھ متعین راتوں میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دے دیتے تھے تاکہ سویا ہوا شخص بیدار ہو جائے اور نوافل پڑھنے والا شخص (سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے۔ وہ فجر کی نماز کے لیے اذان نہیں دیتے تھے اور ان راتوں میں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے صبح صادق ہو جانے کے بعد اذان دیا کرتے تھے اور جب سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی باری آتی تھی تو وہ متعین راتوں میں صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دیتے تھے جس کا ذکر ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں اور ان راتوں میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبح صادق ہونے کے بعد صبح کی نماز کے لیے اذان دیا کرتے تھے اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3464»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 237).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري ← أنيسة بنت خبيب الأنصارية