صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
90. باب الإفطار وتعجيله - ذكر الإباحة للمرء التكلف لإفطاره إذا كان صائما
افطار کرنے اور جلدی افطار کرنے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اگر روزہ دار ہو تو اپنے افطار کے لیے تکلیف اٹھائے
حدیث نمبر: 3511
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفِي ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَهُوَ صَائِمٌ إِذْ قَالَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي"، قَالَ: فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ، فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" ، يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ.
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے۔ آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ نے اپنے اصحاب میں سے کسی سے فرمایا: تم سواری سے نیچے اترو اور ہمارے لیے ستو گھول دو، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی آپ شام ہو لینے دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اترو اور ہمارے لیے ستو گھول دو۔ راوی کہتے ہیں: وہ صاحب اترے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو کھول دیئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پی لیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ اس طرف سے آ جائے، تو روزہ دار شخص افطاری کر لے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ مشرق کی طرف سے آئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3511]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3502»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2037): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
سليمان بن فيروز الشيباني ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي