صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
233. باب الاعتكاف وليلة القدر
اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان -
حدیث نمبر: 3661
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ، فَنُقِضَ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُعِيدَ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" إِنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لأُبِينَهَا لَكُمْ، فَتَلاحَى رَجُلانِ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ" ، قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، فَأَيُّ لَيْلَةٍ التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ، قَالَ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ وَاحِدٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً، ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا هِيَ السَّابِعَةُ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً وَالَّتِي تَلِيهَا هِيَ الْخَامِسَةُ، قَالَ الْجُرَيْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي أَبُو الْعَلاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالثَّالِثَةِ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِالْتِمَاسِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي اللَّيَالِي الْمَعْلُومَةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْخَبَرِ أَمْرُ نَفْلٍ، أُمِرَ مِنْ أَجْلِ سَبَبٍ، وَهُوَ مُصَادَفَةُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَمَتَى صُودِفَتْ فِي إِحْدَى اللَّيَالِي الْمَذْكُورَةِ سَقَطَ عَنْهُ طَلَبُهَا فِي سَائِرِ اللَّيَالِي.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا آپ شب قدر تلاش کر رہے تھے پھر آپ کے حکم کے تحت آپ کے خیمے کو اتار لیا گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات واضح ہوئی کہ شب قدر آخری عشرے میں ہو گی، تو آپ کے حکم کے تحت دوبارہ خیمہ لگا دیا گیا۔ آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: میرے لیے شب قدر کے بارے میں یہ خیمہ لگایا گیا تھا میں اس لیے باہر آیا تھا کہ تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں، لیکن دو آدمی آپس میں بحث کر رہے تھے، تو یہ مجھے بھلا دی گئی، تو اسے نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے (سیدنا) ابوسعید (رضی اللہ عنہ)! آپ گنتی کے بارے میں ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب اکیسویں رات ہو گی، تو پھر ایک رات کو چھوڑ دو۔ پھر اس کے بعد والی رات ہو گی، تو وہ ساتویں ہو گی۔ پھر تم ایک رات کو چھوڑ دو تو اس کے بعد والی پانچویں ہو گی۔ جریری نامی راوی کہتے ہیں: ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ بھی ارشاد فرمائے تھے: ”تیسری رات میں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں مذکور متعین راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا حکم نفل حکم ہے۔ اور یہ حکم سبب کی وجہ سے دیا گیا ہے اور وہ (سبب) شب قدر کا ملنا ہے۔ تو ان مذکورہ راتوں میں سے جب بھی شب قدر آ جائے تو باقی راتوں میں اسے تلاش کرنے کا حکم آدمی سے ساقط ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3661]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3653»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1252): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري