صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
108. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الخبر الدال على أن الحسنة الواحدة قد يرجى بها للمرء محو جنايات سلفت منه
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک نیکی کے ذریعے بندے کی گزشتہ گناہ مٹائے جانے کی امید ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 378
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَبَّدَ عَابِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَعَبَدَ اللَّهَ فِي صَوْمَعَتِهِ، سِتِّينَ عَامًا، فَأَمْطَرَتِ الأَرْضُ، فَاخْضَرَّتْ، فَأَشْرَفَ الرَّاهِبُ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، فقَالَ: لَوْ نَزَلْتُ فَذَكَرْتُ اللَّهَ، لازْدَدْتُ خَيْرًا، فَنَزَلَ وَمَعَهُ رَغِيفٌ أَوْ رَغِيفَانِ، فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الأَرْضِ، لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهَا وَتُكَلِّمُهُ، حَتَّى غَشِيَهَا، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ الْغَدِيرَ يَسْتَحِمُّ، فَجَاءَهُ سَائِلٌ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّغِيفَيْنِ، أَوِ الرَّغِيفَ، ثُمَّ مَاتَ فَوُزِنَتْ عِبَادَةُ سِتِّينَ سَنَةً بِتِلْكَ الزَّنْيَةِ، فَرَجَحَتِ الزَّنْيَةُ بِحَسَنَاتِهِ، ثُمَّ وُضِعَ الرَّغِيفُ أَوِ الرَّغِيفَانِ مَعَ حَسَنَاتِهِ، فَرَجَحَتْ حَسَنَاتُهُ فَغُفِرَ لَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ، عَنْ وَكِيعٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ بِالْعِرَاقِ، وَهَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ فِلَسْطِينَ عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ایک عبادت گزار شخص عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے اپنی عبادت گاہ میں ساٹھ برس تک عبادت کی ایک مرتبہ بارش ہوئی اور زمین سرسبز و شاداب ہو گئی۔ اس راہب نے اپنی عبادت گاہ سے باہر جھانک کر دیکھا، تو اس نے سوچا اگر میں نیچے جا کراللہ تعالیٰ کا ذکر کروں، تو میں زیادہ بھلائی حاصل کر لوں گا۔ پھر وہ وہاں سے نیچے اتر آیا اس کے ساتھ ایک یا شاید دو روٹیاں تھیں۔ ابھی وہ زمین میں پہنچا تھا کہ ایک عورت سے اس کی ملاقات ہوئی۔ وہ راہب اس عورت سے بات چیت کرنے لگا۔ وہ عورت اس شخص کے ساتھ بات چیت کرنے لگی، یہاں تک کہ اس شخص نے اس عورت کے ساتھ زنا کر لیا پھر اس پر مدہوشی طاری ہوئی، تو وہ غسل کرنے کے لئے کنویں میں اتر گیا۔ اسی دوران ایک مانگنے والا اس کے پاس آیا، تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ان دو روٹیوں، یا ایک روٹی کو لے لو، پھر وہ راہب فوت ہو گیا، تو اس کی ساٹھ سال کی عبادت کا وزن اس ایک مرتبہ زنا کرنے کے ساتھ کیا گیا، تو وہ زنا کرنا اس کی نیکیوں سے زیادہ وزنی تھا پھر وہ ایک یا دو روٹیاں اس کی نیکیوں کے ساتھ رکھی گئیں، تو اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اور اس شخص کی مغفرت ہو گئی۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت غالب بن وزیر نامی راوی نے وکیع نامی راوی سے بیت المقدس میں سنی تھی۔ انہوں نے یہ روایت عراق میں بیان نہیں کی یہ ان روایات میں سے ایک ہے جنہیں اہل فلسطین، وکیع کے حوالے سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 378]
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت غالب بن وزیر نامی راوی نے وکیع نامی راوی سے بیت المقدس میں سنی تھی۔ انہوں نے یہ روایت عراق میں بیان نہیں کی یہ ان روایات میں سے ایک ہے جنہیں اہل فلسطین، وکیع کے حوالے سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 378]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 379»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 49 / 45)، «الضعيفة» (6875).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، غالب بن وزير لم يوثقه غير المؤلف 9/ 3، وقال العقيلي في "الضعفاء" 3/ 434: عن ابن وهب، حديثه منكر لا أصل له. وانظر "لسان الميزان" 4/ 416.
الرواة الحديث:
المعرور بن سويد الأسدي ← أبو ذر الغفاري