الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
101. باب الإحرام - ذكر الموضع الذي سئل المصطفى صلى الله عليه وسلم فيه عما وصفنا
احرام کا بیان - اس مقام کا ذکر جہاں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا گیا جو ہم نے بیان کیا
حدیث نمبر: 3798
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي بَطْنِ الرَّوْحَاءِ إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: مَنْ أَنْتُمْ؟، فَقَالَ: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ، ثُمَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ: مَنْ أَنْتَ؟، قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، فَأَخْرَجَتْ صَبِيًّا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ؟، فَقَالَ: وَلَكِ أَجْرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”روحا“ کے نشیبی علاقے سے گزر رہے تھے سامنے سے کچھ لوگ آئے ان میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم مسلمان ہیں۔ پھر ایک خاتون نے دریافت کیا: آپ کون ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس خاتون نے اپنے بچے کو نکالا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج ہو گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جی ہاں) اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3787»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي