صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. - ذكر وصف نزول الوحي على رسول الله صلى الله عليه وسلم-
- وحی کے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے کے انداز اور کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 38
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيَنْفَصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلا، فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَنْفَصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرْقًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حارث بن ہشام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اوقات وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز میں آتی ہے، اور یہ میرے لئے سب سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ جب میری یہ کیفیت ختم ہوتی ہے، تو فرشتے نے جو کہا: ہوتا ہے، میں اسے محفوظ کر لیتا ہوں۔
بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے، تو اس کی کہی ہوئی بات کو میں محفوظ کر لیتا ہوں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، ایک مرتبہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوئی جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ کی مبارک پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 38]
بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے، تو اس کی کہی ہوئی بات کو میں محفوظ کر لیتا ہوں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، ایک مرتبہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوئی جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ کی مبارک پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 38]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (91)، «الصحيحة» (5958): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق