صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
114. باب دخول مكة - ذكر العلة التي من أجلها رمل صلى الله عليه وسلم فيما وصفنا
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ طواف میں رمل کیا
حدیث نمبر: 3812
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، فَقُلْتُ: الأَطْرَافُ الثَّلاثَةُ الَّتِي تُسْنَدُ بِالْكَعْبَةِ؟، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ، تَقُولُ: تُبَايعُونَ ضُعَفَاءَ ؛ قَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَكَلْنَا مِنْ ظَهْرِنَا، فَأَكَلْنَا مِنْ شُحُومِهَا، وَحَسَوْنَا مِنَ الْمَرَقِ، فَأَصْبَحْنَا غَدًا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى الْقَوْمِ، وَبِنَا جِمَامٌ، قَالَ:" لا وَلَكِنِ ائْتُونِي بِفَضْلِ أَزْوَادِكُمْ"، فَبَسَطُوا أَنْطَاعَهُمْ، ثُمَّ جَمَعُوا عَلَيْهَا مِنْ أَطْعِمَاتِهِمْ كُلَّهَا، فَدَعَا لَهُمْ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَضَلَّعُوا شِبَعًا، فَأَكْفَتُوا فِي جُرَبِهِمْ فُضُولَ مَا فَضَلَ مِنْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرَيْشٍ، وَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحَجَرِ، اضْطَبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" لا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً"، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، وَتَغَيَّبَتْ قُرَيْشٌ، مَشَى هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ الأَسْوَدَ، فَطَافَ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، فَلِذَلِكَ تَقُولُ قُرَيْشٌ وَهُمْ يَمُرُّونَ بِهِمْ يَرْمُلُونَ: لَكَأَنَّهُمُ الْغِزْلانُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَتْ سُنَّةً .
ابن خثیم بیان کرتے ہیں: میں نے ابوطفیل سے دریافت کیا: میں نے کہا: وہ تین اطراف جن میں خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی جاتی ہے، تو ابوطفیل نے بتایا: میں نے اس بارے میں سیدنا ابن عباس سے دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: قریش کے ساتھ صلح کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہر ان کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں: تم لوگوں نے کمزور لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم اپنی قربانی کے جانوروں کا گوشت کھائیں اور ان کی چربی کو کھائیں اور اس کا شوربہ پی لیں (تو ہمارے جسموں میں طاقت آ جائے گی)، تو ہم کل صبح مکہ میں داخل ہوں گے اور اس وقت ہم طاقت ور نظر آئیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اپنے زاد سفر میں سے بچ جانے والی چیزیں لے کر آؤ پھر لوگوں نے اپنے دسترخوان بچھائے اور اس پر اپنے کھانے کی تمام چیزیں جمع کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے بارے میں برکت کی دعا کی، تو انہوں نے اسے کھایا، تو ان کے پیٹ بھر گئے۔ انہوں نے باقی بچ جانے والی چیزیں اپنے تھیلوں میں ڈال لی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سامنے آئے تو قریش حجر اسود کے سامنے اکٹھے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع (کے طور پر کپڑے کو لپیٹا)، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ان لوگوں کو تمہارے اندر کمزوری نہیں نظر آنی چاہیئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن یمانی کا استلام کیا۔ اس وقت قریش دوسری طرف ہو گئے (یعنی نظر نہیں آتے تھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب عام رفتار سے چلتے تھے، یہاں تک کہ حجر اسود کا استلام کر لیتے (تو پھر دوڑنا شروع کر دیتے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طواف اس طرح کیے یہ حضرات دوڑتے ہوئے قریش کے پاس سے گزرتے، تو قریش یہ کہتے تھے: یہ ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، تو یہ سنت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3812]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3801»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1650)، «الصحيحة» (2573).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح
الرواة الحديث:
عامر بن واثلة الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي