صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
117. باب دخول مكة - ذكر العلة التي من أجلها اقتصر القوم في بناء الكعبة على قواعد إبراهيم
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک محدود رکھا
حدیث نمبر: 3817
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ سَأَلَ الأَسْوَدَ، وَكَانَ يَأْتِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَكَانَتْ تُفْضِي إِلَيْهِ، قَالَ الأَسْوَدُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةِ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ" ، فَهَدَمَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ.
اسود بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسود سے سوال کیا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جایا کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان پر خصوصی شفقت کرتی تھیں۔ اسود نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا دیتا اور اس کے دو دروازے بنواتا۔“ راوی کہتے ہیں: اس لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کے دو دروازے بنوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3817]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3806»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق