صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
148. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر ما يجب على المرء من الوقوف بعرفات في حجه
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کا ذکر جو حاجی پر اپنے حج میں عرفات میں وقوف کے لیے واجب ہے
حدیث نمبر: 3849
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ وَاقِفًا هَا هُنَا" .
محمد بن جبیر اپنے والد (سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میرا اونٹ گم ہو گیا میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں لوگوں کے ہمراہ وقوف کیے ہوئے دیکھا میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو حمس سے تعلق رکھتے ہیں یہ یہاں وقوف کیوں کیے ہوئے ہیں؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3849]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3838»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
محمد بن جبير القرشي ← جبير بن مطعم القرشي