صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
119. باب الإخلاص وأعمال السر - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من حفظ القلب والتعاهد لأعمال السر إذ الأسرار عند الله غير مكتومة
اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ اپنے دل کی حفاظت کرے اور پوشیدہ اعمال کا خیال رکھے کیونکہ راز اللہ پر پوشیدہ نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 390
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِحِجَابِ الْكَعْبَةِ، وَفِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، فَقَالُوا: تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا؟ فقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا، فقَالَ رَجُلٌ: لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا، لَيَسْمَعَنَّ إِذَا أَخْفَيْنَا وَقَالَ الآخَرُ: مَا أَرَى إِلا أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ سورة فصلت آية 22 إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں خانہ کعبہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا۔ مسجد (یعنی خانہ کعبہ کے قریب) ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور اس کے دو داماد جن کا تعلق قریش سے تھا وہ وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے۔ کیااللہ تعالیٰ ہماری بات سن لیتا ہے۔ تو ان میں سے ایک نے کہا: اگر ہم بلند آواز میں بات کریں گے۔ تو وہ سن لے گا۔ دوسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز میں بات کرنے پر سن لیتا ہے۔ تو پھر پست آواز والی بات کو بھی ضرور سننا چاہیے۔ تیسرے نے کہا: میرا یہ خیال ہے کہاللہ تعالیٰ ہماری ہر بات سن لیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو ان لوگوں کے قول کے بارے میں بتایا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اور جو کچھ تم چھپا کر رکھتے ہو، تو تمہاری سماعت اور بصارت تمہارے خلاف گواہی دیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 390]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 391»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (3248): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أبو عبد الرحيم: هو خالد بن يزيد، وأبو الضحى هو مسلم بن صبيح.
الرواة الحديث:
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود