صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
131. باب الإخلاص وأعمال السر - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تحفظ أحواله في أوقات السر
اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ خلوت کے اوقات میں اپنے احوال کا خیال رکھے۔
حدیث نمبر: 402
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ يُكَفِّرُ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ أَوِ الطُّهُورِ فِي الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ، وَالصَّلاةُ بَعْدَ الصَّلاةِ وَمَا مِنْ أَحَدٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ، فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ مَعَ الإِمَامِ، ثُمَّ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ الَّتِي بَعْدَهَا، إِلا، قَالَتِ الْمَلائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ، فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ، وَسُدُّوا الْفُرَجَ، فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ، فَكَبِّرُوا، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي، وَإِذَا، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ، فَاحْفَظْنَ أَبْصَارَكُنَّ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ" فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: مَا يَعْنِي بِذَلِكَ؟ قَالَ: ضِيقُ الأُزُرِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کروں؟ جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب طبیعت آمادہ نہ ہو، اس وقت اچھی طرح وضو کرنا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ لفظ وضو استعمال ہوا ہے یا طہارت استعمال ہوا ہے) اور اس مسجد کی طرف زیادہ چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز ادا کرنا جو بھی شخص اچھی طرح وضو کر کے اپنے گھر سے نکل کر مسجد تک آتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ (راوی کو یہ شک ہے شاید) امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتا ہے اور پھر وہ اس سے بعد والی نماز کا انتظار کرتا ہے، تو فرشتے یہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے۔ اے اللہ! تو اس پر رحم کر۔ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو، تو اپنی صفوں کو سیدھا کر لو اور درمیان میں خالی جگہ کو پر کر دو جب امام تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو، کیونکہ میں تم لوگوں کو اپنے پیچھے بھی دیکھ لیتا ہوں جب امام «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو۔ مردوں کی سب سے زیادہ بہتر صف آگے والی ہے اور مردوں کی کم بہتر صنف سب سے پیچھے والی ہے اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے اور سب سے کم بہتر صف سب سے آگے والی ہے۔ اے خواتین کے گروہ! جب مرد سجدے میں جائیں، تو تم لوگ مردوں کی شرم گاہ کے حوالے سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابوبکر سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ (یعنی اس حکم کی وجہ کیا ہے)، تو انہوں نے فرمایا: کیونکہ ان کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 402]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 403»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 161). * [ابْنُ خُزَيْمَةَ] قال الشيخ: أخرجه في «صحيحه» مُفرَّقاً في مواضعَ (1/ 90/ 177 و185/ 353 و 3/ 28/ 1562) لكن من طريق أبي موسى: حدثني الضحَّاك بن مخلد - أبو عاصم - به. ومن هذا وجهٌ آخر: أخرجه الحاكم (1/ 191 - 192)، وقال: «صحيح على شرط الشيخين»، ووافقه الذهبي. وأعلَّهُ ابنُ خزيمةَ بتفرُّد أبي عاصمٍ، ومُخالفتِه زهيرَ بنَ محمد! وهو إعلالٌ غريبٌ، فأبو عاصمٍ ثقةٌ ثبتٌ، كما في «التقريب»، وزهيرُ بنُ محمد - وهو أبو محمد الخُراسانيُّ - فيه كلامٌ معروفٌ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، محمد بن عبد الرحيم من رجال البخاري، ومن فوقه من رجال الشيخين، أبو عاصم هو الضحاك بن مخلد. وسفيان: هو الثوري.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو سعيد الخدري | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر عبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← سفيان الثوري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن عبد الرحيم القرشي، أبو يحيى محمد بن عبد الرحيم القرشي ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة حافظ أمين | |
👤←👥ابن خزيمة السلمي، أبو بكر ابن خزيمة السلمي ← محمد بن عبد الرحيم القرشي | ثقة حجة |
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو سعيد الخدري