🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ذكر العلة التي من أجلها أرضعت سهلة سالما-
- اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر سہلہ نے سالم کو دودھ پلایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4215
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَكَانَ قَدْ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمُ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ ابْنَةَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ، فَقَالَ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5، رَدَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِمَّنْ تَبَنَّى أُولَئِكَ إِِلَى أَبِيهِ، فَإِِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِِلَى مَوْلاهُ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ، وَلَيْسَ لَنَا إِِلا بَيْتٌ وَاحِدٌ، فَمَاذَا تَرَى فِي شَأْنِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِكِ". فَفَعَلَتْ، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ فِيمَنْ كَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ: مَا نَرَى الَّذِي أَمْرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، إِِلا رُخْصَةً فِي سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَى هَذَا مِنَ الْخَبَرِ كَانَ رَأْيُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ.
امام مالک رحمہ اللہ، ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ان سے بڑی عمر کے فرد کی رضاعت کا مسئلہ دریافت کیا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، انہوں نے سالم رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، یہ وہی سالم رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں سالم مولیٰ ابوحذیفہ کہا جاتا ہے، یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سالم رضی اللہ عنہ کی شادی اپنی بھتیجی سیدہ فاطمہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا سے کی تھی، اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ انہیں اپنا بیٹا سمجھتے تھے اور وہ لڑکی اس وقت ابتدائی طور پر ہجرت کرنے والی خواتین میں شامل تھیں اور قریش کی بیوہ عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والی خاتون تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم نازل کر دیا اور ارشاد فرمایا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] تم انہیں ان کے حقیقی باپوں کے حوالے سے بلاؤ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ مطابق ہے اور اگر تمہیں ان کے حقیقی باپ کے بارے میں علم نہ ہو تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور آزاد کردہ غلام ہیں۔ تو ہر وہ شخص جس نے کسی کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، اس نے اس بچے کی نسبت اس کے حقیقی باپ کی طرف کر دی اور اگر کسی کے باپ کے بارے میں پتہ نہیں تھا تو اسے اس کے آزاد کرنے والے مولیٰ کی طرف منسوب کیا گیا۔ سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں اور ان کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس آیا کرتا تھا، ہمارا صرف ایک ہی گھر ہے تو اس کے معاملے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دو، تمہارے دودھ کی وجہ سے وہ حرمت والا ہو جائے گا۔ اس خاتون نے ایسا ہی کیا اور وہ اس لڑکے کو اپنا رضاعی بیٹا سمجھتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حکم حاصل کیا کہ جس مرد کے بارے میں وہ یہ بات پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آ جایا کرے، تو وہ اپنی بہن سیدہ ام کلثوم بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو یا اپنی کسی بھتیجی کو یہ ہدایت کرتی تھیں کہ وہ اس لڑکے کو دودھ پلا دے جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آ جایا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ اس نوعیت کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ان کے ہاں داخل ہو، وہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن یہ کہتی تھیں کہ ہم یہ سمجھتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو یہ حکم اس حوالے سے دیا تھا کہ یہ صرف سالم کے لیے رخصت تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تھی، اس طرح کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ہمارے ہاں نہیں آ سکتا۔ تو بڑی عمر کے شخص کی رضاعت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی یہی رائے تھی جو اس روایت میں منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4000، 5088، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1453، وابن الجارود فى "المنتقى"، 747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4213، 4214، 4215، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2707، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2061، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2303، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24742» «رقم طبعة با وزير 4202»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح رجاله ثقات رجال الشيخين


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم كلثوم بنت سهيل القرشية، أم كلثومصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← أم كلثوم بنت سهيل القرشية
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر
Newعمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 4215 in Urdu