صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
29. باب النفقة - ذكر الإخبار عما يجب على والي اليتيم التسوية بين من في حجره من الأيتام وبين ولده في النفقة عليهم-
نفقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ یتیم کے ولی پر واجب ہے کہ وہ اپنی پرورش میں موجود یتیموں اور اپنے بچوں کے درمیان نفقہ میں تساوی کرے
حدیث نمبر: 4244
أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّا أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ قَالَ:" مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا مِنْهُ وَلَدَكَ غَيْرَ وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ، وَلا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ہاں زیر پرورش یتیم بچے کو کس چیز کے ذریعے ماروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز سے جس کے ذریعے تم اپنے بیٹے کو مارتے ہو تم اس زیر پرورش یتیم کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے کی کوشش نہ کرو اور اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنے کی کوشش نہ کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4244]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4230»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الروض النضير» (249).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري