صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
31. باب النفقة - ذكر كتبة الله جل وعلا الأجر للمنفقة على أولاد زوجها من مالها-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس عورت کے لیے اجر لکھتا ہے جو اپنے مال سے اپنے شوہر کے بچوں پر خرچ کرتی ہے
حدیث نمبر: 4246
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟ فَإِِنِّي أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَإِِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا، تَقُولُ: كَانَ لِي أَجْرٌ أَوْ لَمْ يَكُنْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ،" لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" .
سیده زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کیا سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کے بچوں کے حوالے سے مجھے کوئی اجر ملے گا، کیونکہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں وہ میری اولاد ہیں میں انہیں اس حال میں ترک نہیں کر سکتی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا مجھے اس کا اجر ملے گا یا نہیں ملے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں تمہیں ان کے بارے میں اس چیز کا اجر ملے گا جو تم ان پر خرچ کرتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4246]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4232»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي