صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. باب الولاء-
ولاء کا بیان -
حدیث نمبر: 4325
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ، عَدَدْتُهَا لَهُمْ وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ. فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِِنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ. فَسَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرْتُهُ عَائِشَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا بَعْدُ " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِِنْ كَانَ مِائَةُ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، وَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ: اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ، لَفْظَةُ أَمْرٍ مُرَادُهَا نَفْيُ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ ذَلِكَ الْفِعْلِ لَوْ فَعَلَتْهُ لا الأَمْرُ بِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقِبِ هَذَا الْقَوْلِ قَامَ خَطِيبًا لِلنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ لا لِمَنِ اشْتَرَطَ لَهُ، وَنَظِيرُ هَذِهِ اللفظةِ فِي السُّنَنِ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ فِي قِصَّةِ النَّحْلِ: أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي؟ أَرَادَ بِهِ الإِِعْلامَ أَنَّكَ لَوْ فَعَلْتَ هَذَا الْفِعْلَ لَمْ يُجَزْ لأَنَّهُ جَوْرٌ، وَلَوْ جَازَ شَهَادَةٌ غَيْرَهُ لَجَازَتْ شَهَادَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ جَوْرًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ میرے پاس آئی اس نے کہا: میں نے نو اوقیہ کے عوض میں اپنے مالک کے ساتھ کتابت کا معاہدہ کیا ہے جس میں ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنی ہو گی تو آپ میری مدد کیجئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تمہارا مالک چاہے تو میں انہیں تمام ادائیگی ایک ساتھ کر دیتی ہوں اور تمہاری ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ اپنے مالک کے پاس گئی اس نے انہیں یہ بات بتائی تو ان لوگوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا وہ اپنے مالکان سے واپس آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اس نے بتایا: میں نے اس کے سامنے یہ پیش کش رکھی تھی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور یہ اصرار کیا کہ ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے خرید لو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: امابعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی اگرچہ سو شرطیں عائد کی گئی ہوں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (پورا کیے جانے کا) زیادہ حقدار ہے اور اللہ تعالیٰ کی (جائز کردہ) شرط زیادہ مضبوط ہوتی ہے ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمانا ”تم ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو“ یہ لفظی طور پر امر کے الفاظ ہیں، لیکن اس سے مراد اس فعل پر عمل کرنے کے جائز ہونے کی نفی ہے اگر وہ ایسا کر لیتی ہیں (تو یہ جائز نہیں ہو گا) اس سے یہ مراد نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس بات کا حکم دے رہے ہیں اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان کے بعد لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: اور انہیں یہ بتایا کہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے اسے حاصل نہیں ہوتا جو اس کی شرط عائد کرتا ہے اور اس نوعیت کے الفاظ کی مثالیں سنت میں اور بھی ہیں جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو (اپنے ایک بیٹے کو) عطیہ دینے کے واقعے میں یہ فرمایا تھا: تم میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو۔“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس بات کی اطلاع دینا تھا کہ اگر تم اس فعل کو سر انجام دو گے تو یہ جائز نہیں ہو گا کیونکہ یہ ظلم ہے (کیونکہ اصول یہ ہے) اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی گواہی جائز ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی بھی جائز ہونی چاہئے تھی۔ اور یہ عمل ظلم نہ ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4325]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4310»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1308): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق