الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. ذكر الإباحة للحالف أن يحنث يمينه إذا رأى ذلك خيرا من المضي فيه-
- ذکر اس بات کی اجازت کا کہ قسم کھانے والا اپنی قسم توڑ سکتا ہے اگر وہ اسے قسم پر عمل کرنے سے بہتر دیکھے
حدیث نمبر: 4350
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا، وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَانْطَلَقَ وَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ أَبُوكَ مَنْزِلَهُ، فَيَطْعَمُ مَعَنَا، فَقُلْتُ: إِِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِِنَّكُمْ إِِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى، فَأَبَوْا عَلَيْنَا، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: قَدْ فَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ، فَقَالَ: أَلَمْ آمُرُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَتَنَحَّيْتُ، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِِلا جِئْتَ فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ، هَؤُلاءِ أَضْيَافُكَ فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ لا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ؟ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" وَاللَّهِ لا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ. قَالُوا: فَوَاللَّهِ لا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ. فَقَالَ: لَمْ أَرْ كَالشَّرِّ مُنْذُ اللَّيْلَةِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الأَوَّلُ فَمِنِ الشَّيْطَانِ، فَهَلُمُّوا قِرَاكُمْ فَجِيءَ بِالطَّعَامِ، فَسَمَّى اللَّهَ، وَأَكَلَ، وَأَكَلُوا، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ. فَقَالَ:" بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَخَيْرُهُمْ" .
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے میرے والد نماز کے وقت (عشاء کے بعد دیر تک) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے جب وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) جانے لگے تو انہوں نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن مہمانوں کو کھانا کھلا دینا جب شام ہوئی تو میں کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور یہ کہا: جب تک تمہارے والد گھر واپس نہیں آتے اور ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھاتے (ہم اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے) میں نے کہا: وہ غصے والے آدمی ہیں اگر آپ لوگوں نے کھانا نہ کھایا تو مجھے یہ اندیشہ ہے وہ میری پٹائی کریں گے لیکن مہمانوں نے یہ بات نہیں مانی جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگوں نے کھانا کھا لیا ہے؟ مہمانوں نے جواب دیا: جی نہیں اللہ کی قسم! (ہم نے کھانا نہیں کھایا) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے عبدالرحمن کو یہ ہدایت نہیں کی تھی (کہ وہ آپ کو کھانا کھلا دے) سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک طرف ہٹ چکا تھا انہوں نے (بلند آواز میں) کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تم میری آواز سن رہے ہو تو آ جاؤ تو میں آگیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا کوئی قصور نہیں ہے یہ آپ کے مہمان موجود ہیں آپ ان سے دریافت کر لیں میں ان کے پاس کھانا لے کر آیا تھا، لیکن انہوں نے اس وقت تک کھانے سے انکار کر دیا جب تک آپ نہیں آ جاتے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وجہ ہے آپ لوگوں نے کھانا کیوں قبول نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ دیا اللہ کی قسم! آج رات میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھائیں گے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آج رات جیسی مشکل صورت کبھی نہیں دیکھی پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک پہلی قسم کا تعلق ہے تو وہ شیطان کی طرف سے ہو گئی۔ آپ لوگ کھانے کی طرف آئیں پھر کھانا لایا گیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ پڑھی اور کھانا کھا لیا مہمانوں نے بھی کھانا کھا لیا اگلے دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں نے تو نیکی کر لی اور میں حانث ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان سب سے زیادہ نیک اور ان سب سے بہتر ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4335»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2/ 76).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
الرواة الحديث:
أبو عثمان النهدي ← عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق