صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
166. باب صلة الرحم وقطعها - ذكر إيجاب دخول الجنة للواصل رحمه إذا قرنه بسائر العبادات
صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص صلہ رحمی کرے اور اسے دیگر عبادات کے ساتھ جوڑے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُنْجِينِي مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى وُجُوهِ أَصْحَابِهِ وَكَفَّ عَنْ نَاقَتِهِ وَقَالَ:" لَقَدْ وُفِّقَ، أَوْ هُدِيَ، لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعِ النَّاقَةَ" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا۔ اس نے آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑ لیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسے معاملے کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات دیدے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا اور اپنی اونٹنی کو روک لیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کو توفیق دی گئی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ہدایت دی گئی، تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم نماز ادا کرو، زکوۃ ادا کرو۔ صلہ رحمی کرو اور (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 438»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الترغيب والترهيب» (747): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
موسى بن طلحة القرشي ← أبو أيوب الأنصاري