صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
43. باب الزنى وحده - ذكر البيان بأن المرأة الحامل المقرة بالزنى على نفسها ثم ولدت يجب على الإمام التربص برجمها إلى أن تفطم ولدها-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ حاملہ عورت جو اپنے اوپر زنا کا اقرار کرے، جب بچہ جن دے تو امام پر واجب ہے کہ رجم میں اس وقت تک تاخیر کرے جب تک وہ اپنے بچے کو دودھ نہ چھڑا دے۔
حدیث نمبر: 4442
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قَدْ أَحْدَثْتُ وَهِيَ حُبْلَى، فَأَمَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَذْهَبَ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَذْهَبَ فَتُرْضِعَهُ حَتَّى تَفْطِمَهُ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَدْفَعَ وَلَدَهَا إِِلَى أُنَاسٍ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ، فَسَأَلَهَا:" إِِلَى مَنْ دَفَعَتْ"، فَأَخْبَرَتْ أَنَّهَا دَفَعْتُهُ إِِلَى فُلانٍ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَأْخُذَهُ وَتَدْفَعَهُ إِِلَى آلِ فُلانٍ نَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ، ثُمَّ إِِنَّهَا جَاءَتْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا، ثُمَّ إِِنَّهُ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ إِِنَّهُ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ دَفَنَهَا، فَقَالَ النَّاسُ: رَجَمَهَا، ثُمَّ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ دَفَنَهَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَقَالَ:" لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ تَوْبَتُهَا بَيْنَ سَبْعِينَ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے بتایا: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور وہ حاملہ بھی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ جائے اور جا کر پہلے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے۔ جب اس نے جنم دے دیا تو وہ پھر آ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جائے اور اس بچے کو دودھ پلائے جب تک بچہ دودھ چھوڑ نہیں دیتا اس عورت نے ایسا ہی کیا وہ پھر آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے بچے کو کسی کے سپرد کر کے آئے، تو اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ وہ پھر آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اس نے بچے کو کس کے سپرد کیا ہے؟ اس عورت نے بتایا: میں نے اسے فلاں کے سپرد کر دیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے بچے کو لے اور آل فلاں کے حوالے کرے۔ یہ انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں حکم دیا پھر وہ عورت آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا وہ اپنے کپڑے کو مضبوطی سے باندھ لے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفن دیا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دفن کیا۔ لوگوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسے سنگسار کروایا پھر اسے کفن دیا پھر اس کی نماز جنازہ بھی ادا کی پھر اسے دفن بھی کروایا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4425»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (7/ 366)، «الروض» (97).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
أبو المليح بن أسامة الهذلي ← عبد الله بن قيس الأشعري