صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للأئمة استمالة قلوب رعيتهم بإقطاع الأرضين لهم-
خلافت و امارت کا بیان - اماموں کے لیے اپنی رعایا کے دل موہ لینے کی خاطر زمینیں عطا کرنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 4500
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: قَالَ حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مَالٌ وَلا مَمْلُوكٌ، غَيْرُ نَاضِحٍ، وَغَيْرُ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَكْفِيهِ مُؤْنَتَهُ، وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ، وَأَعْلِفُهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي الدَّلْوَ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أَحْسِنُ أَخْبِزُ، فَتَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ ثُلُثَا فَرْسَخٍ، قَالَتْ: فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ:" إِِخْ إِِخْ"، لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمْشِيَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ وَكَانَ أَغْيَرُ النَّاسِ، قَالَ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى، فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لأَرْكَبَ مَعَهُ، فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ، قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ، فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ شادی کی اس وقت نہ ان کے پاس کوئی زمین تھی نہ کوئی غلام تھا ان کے پاس صرف ایک اونٹ تھا اور ایک گھوڑا تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان کے گھوڑے کو چارا کھلایا کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی میں ان کے اونٹ کے لیے گٹھلیاں چنا کرتی تھی اور اسے چارا فراہم کیا کرتی تھی اور اسے پانی پلایا کرتی تھی اور اس کے لیے (پانی کا) ڈول تیار کیا کرتی تھی میں آٹا گوندھ لیتی تھی لیکن مجھ سے روٹی اچھی طرح سے نہیں بنائی جاتی تھی تو میری انصاری پڑوسنیں مجھے روٹی بنا دیا کرتی تھیں وہ بڑی مخلص خواتین تھیں میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لایا کرتی تھی وہ زمین جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کی تھی اور وہ دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن میں آ رہی تھی میرے سر پر گٹھلیاں موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھ سے سامنا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اخ اخ (یعنی آپ نے اونٹ کو ٹھہرایا) تاکہ آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آ گئی مجھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے مزاج کی تیزی کا بھی خیال آیا، کیونکہ ان میں غصہ بہت زیادہ تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ میں شرما رہی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے پھر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور میں نے انہیں بتایا کہ میری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی میرے سر پر گٹھلیاں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا تھا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار ہو جاؤں تو مجھے شرم آ گئی تو مجھے آپ کے مزاج کی تیزی کا بھی خیال آ گیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہارا گٹھلیاں اٹھانا میرے نزدیک تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار ہو جانے سے زیادہ گراں ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، یہاں تک کہ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے خادم بھجوایا جو میری جگہ گھوڑے کی دیکھ بھال کر لیا کرتا تھا تو انہوں نے گویا مجھے آزاد کروا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4483»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (5224)، م (2182).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية